اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے، یُوں ہے
یُوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یُوں ہے، یُوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو سِتادہ کب سے
ایک سایہ نہ دَروُں ہے نہ بِروُں ہے، یُوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
اب تم آئے ہو مِری جان! تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطُم نہ سُکوں ہے، یُوں ہے
ناصحا! تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے، سمجھاتا ہے، یُوں ہے، یُوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار، فرازؔ
یہ بھی اِک سلسلہ کُن فَیَکُوں ہے، یُوں ہے
احمد فراز
No comments:
Post a Comment