Thursday, 6 November 2014

یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں

یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں
یہاں خود اپنے لیے بھی دعا کسی کی نہیں
خزاں میں چاک گریباں تھا میں، بہار میں تُو
مگر یہ فصلِ ستم آشنا کسی کی نہیں
سب اپنے اپنے فسانے سنائے جاتے ہیں
نگاہِ یار، مگر ہمنوا کسی کی نہیں
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں
فرازؔ! اپنی جگر کاریوں پہ ناز نہ کر
کہ یہ متاعِ ہنر بھی سدا کسی کی نہیں

احمد فراز

No comments:

Post a Comment