Thursday, 6 November 2014

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہُوا
اب کیا کہیں یہ قِصہ پرانا بہت ہوا
ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شبِ فراق
اے مرگِ ناگہاں! تِرا آنا بہت ہوا
ہم خُلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا
اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا
اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی
اس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا
اب کیوں نہ زندگی کو محبت پہ وار دیں
اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا
اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا
مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا
کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل
اے یادِ یار! تیرا ٹھکانہ بہت ہوا
کہتا تھا ناصحوں سے مِرے منہ نہ آئیو
پھر کیا تھا ایک "ہو" کا بہانہ بہت ہوا
لو پھر تِرے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر
احمد فرازؔ! تجھ سے کہا ناں، بہت ہوا

احمد فراز

No comments:

Post a Comment