بعض کاموں کی تلافی نہیں ہوتی صاحب
بے وفائی کی معافی نہیں ہوتی صاحب
ختم ہو جائے کسی آخری لمحے پہ مٹھاس
یہ محبت کوئی ٹافی نہیں ہوتی صاحب
ہر کوئی حسن نہیں دل میں اترنے والا
ہر کوئی آنکھ غلافی نہیں ہوتی صاحب
بے معانی ہو مگر اہلِ دلاں کے مابین
کوئی بھی بات اضافی نہیں ہوتی صاحب
عشق میں جیتنے والے کی سزا سولی ہے
عشق میں کوئی ٹرافی نہیں ہوتی صاحب
آ مجھے آ کے غزل گوئی کے چنگل سے نکال
اس قدر قافیہ بافی نہیں ہوتی صاحب
بے وفائی کی معافی نہیں ہوتی صاحب
ختم ہو جائے کسی آخری لمحے پہ مٹھاس
یہ محبت کوئی ٹافی نہیں ہوتی صاحب
ہر کوئی حسن نہیں دل میں اترنے والا
ہر کوئی آنکھ غلافی نہیں ہوتی صاحب
بے معانی ہو مگر اہلِ دلاں کے مابین
کوئی بھی بات اضافی نہیں ہوتی صاحب
عشق میں جیتنے والے کی سزا سولی ہے
عشق میں کوئی ٹرافی نہیں ہوتی صاحب
آ مجھے آ کے غزل گوئی کے چنگل سے نکال
اس قدر قافیہ بافی نہیں ہوتی صاحب
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment