Sunday, 16 November 2014

ہر گھڑی رائیگاں گزرتی ہے

ہر گھڑی رائیگاں گزرتی ہے
زندگی اب کہاں گزرتی ہے
درد کی شام، دشتِ ہجراں سے
صُورتِ کارواں گزرتی ہے
شب گراتی ہے بجلیاں دل پر
صبح آتش بجاں گزرتی ہے
زخم پہلے مہکنے لگتے تھے
اب ہوا بے نشاں گزرتی ہے
تُو خفا ہے تو دل سے یاد تری
کس لیے مہرباں گزرتی ہے
اپنی گلیوں سے امن کی خواہش
تن پہ اوڑھے دھواں گزرتی ہے
مسکرایا نہ کر کہ محسنؔ پر
یہ سخاوت گراں گزرتی ہے

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment