اے عشق! تُو نے اکثر، قوموں کو کھا کے چھوڑا
جس گھر سے سراٹھایا، اس کو بٹھا کے چھوڑا
فرہاد کوہکن کی، لی تُو نے جانِ شیریں
اور قیسِ عامری کو، مجنوں بنا کے چھوڑا
یعقوبؑ سے بشر کو، دی تُو نے ناصبوری
یوسفؑ سے پارسا پر بہتاں لگا کے چھوڑا
افسانہ تیرا رنگیں، رُوداد تیری دل کش
شعر و سخن کو تُو نے جادو بنا کے چھوڑا
اِک، دسترس سے تیری، حالیؔ بچا ہُوا تھا
اس کے بھی دل پہ آخر چرکا لگا کے چھوڑا
جس گھر سے سراٹھایا، اس کو بٹھا کے چھوڑا
فرہاد کوہکن کی، لی تُو نے جانِ شیریں
اور قیسِ عامری کو، مجنوں بنا کے چھوڑا
یعقوبؑ سے بشر کو، دی تُو نے ناصبوری
یوسفؑ سے پارسا پر بہتاں لگا کے چھوڑا
افسانہ تیرا رنگیں، رُوداد تیری دل کش
شعر و سخن کو تُو نے جادو بنا کے چھوڑا
اِک، دسترس سے تیری، حالیؔ بچا ہُوا تھا
اس کے بھی دل پہ آخر چرکا لگا کے چھوڑا
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment