اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے، نہ در کی صورت
کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی، گلِ تر کی صورت
اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضرؑ کی صورت
دیکھیے شیخ، مصور سے کِچھے یا نہ کِچھے
صورت اور آپ سے بے عیب بشر کی صورت
واعظو! آتشِ دوزخ سے جہاں کو تم نے
یہ ڈرایا ہے کہ خود بن گئے ڈر کی صورت
شوق میں اس کے مزا، درد میں اس کے لذت
ناصحو، اس سے نہیں کوئی مفر کی صورت
رہنماؤں کے ہوئے جاتے ہیں اوسان خطا
راہ میں کچھ نظر آتی ہے خطر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے، نہ در کی صورت
کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی، گلِ تر کی صورت
اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضرؑ کی صورت
دیکھیے شیخ، مصور سے کِچھے یا نہ کِچھے
صورت اور آپ سے بے عیب بشر کی صورت
واعظو! آتشِ دوزخ سے جہاں کو تم نے
یہ ڈرایا ہے کہ خود بن گئے ڈر کی صورت
شوق میں اس کے مزا، درد میں اس کے لذت
ناصحو، اس سے نہیں کوئی مفر کی صورت
رہنماؤں کے ہوئے جاتے ہیں اوسان خطا
راہ میں کچھ نظر آتی ہے خطر کی صورت
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment