Sunday, 16 November 2014

شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے

شرما گئے، لجا گئے، دامن چھڑا گئے
اے عشق! مرحبا وہ یہاں تک تو آ گئے
دل پر ہزار طرح کے اوہام چھا گئے
یہ تم نے کیا کیا، مِری دنیا میں آ گئے
سب کچھ لُٹا کے راہِ محبت میں اہلِ دل
خوش ہیں کہ جیسے دولتِ کونین پا گئے
صحنِ چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا
وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے
عقل و جنوں میں سب کی تھیں راہیں جدا جدا
ہر پھر کے لیکن ایک ہی منزل پہ آ گئے
اب کیا کروں میں فطرتِ ناکامِ عشق کو
جتنے تھے حادثات، مجھے راس آ گئے 

جگر مراد آبادی 

No comments:

Post a Comment