Thursday, 6 November 2014

ملک خدا میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیں

ملکِ خدا میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیں
 تعمیرِ دو جہاں کی بنیاد ہیں تو ہم ہیں
 دیکھا پرکھ پرکھ کر آخر نظر چڑھا یہ
 گر نقد ہیں تو ہم ہیں، نقاد ہیں تو ہم ہیں
 اپنا ہی دیکھتے ہو تم بندوبست یارو
 گر داد ہیں تو ہم ہیں، فریاد ہیں تو ہم ہیں
 پھیلا کے دامِ الفت گھرتے گھراتے ہم ہیں
 گر صید ہیں تو ہم ہیں، صیاد ہیں تو ہم ہیں
 ٹھہرا ہے عشق بازی دن رات کھیل اپنا
 گر قیس ہیں تو ہم ہیں، فرہاد ہیں تو ہم ہیں
 شادی و غم یہ دونوں اپنی ہی حالتیں ہیں
 دلگیر ہیں تو ہم ہیں اور شاد ہیں تو ہم ہیں
 کاریگری کی اپنے یہ سب مصوری ہے
 تصویر ہیں تو ہم ہیں، بہزاد ہیں تو ہم ہیں
 ہستی کے کاغذوں پر ہیں دستخط ہمارے
 گر فرد ہیں تو ہم ہیں اور صاد ہیں تو ہم ہیں
 جو کچھ کہ یہ گڑھت ہے سو ہے ہتوٹی اپنی
 فولاد ہیں تو ہم ہیں حداد ہیں تو ہم ہیں
 روئے زمیں کے اوپر مانندِ گردبادے
 گر خاک ہیں تو ہم ہیں اور باد ہیں تو ہم ہیں
 تعلیم اور تعلّم سب ہے نیازؔ اپنا
 شاگرد ہیں تو ہم ہیں اُستاد ہیں تو ہم ہیں

شاہ نیاز بریلوی

No comments:

Post a Comment