Wednesday, 7 October 2015

رنگ اور نور کی تمثیل سے ہو گا کہ نہیں

رنگ اور نور کی تمثِیل سے ہو گا کہ نہیں
شب کا ماتم مِری قندِیل سے ہو گا کہ نہیں
دیکھنا یہ ہے کہ جنگل کو چلانے کے لیے
مشورہ ریچھ سے اور چِیل سے ہو گا کہ نہیں
اب نہ ہاتھی نظر آتے ہیں، نہ ہاتھی والے
اب وہی کام "ابابِیل" سے ہو گا کہ نہیں
آیتِ تِیرہ شبی پڑھتے ہوئے عمر ہوئی
سامنا اب بھی عزازِیل سے ہو گا کہ نہیں
زرد مٹی میں اترتی ہوئی اے قوسِ قزح
خواب پیدا تِری ترسِیل سے ہو گا کہ نہیں
اوس کے پھول مہکتے ہیں تِری آنکھوں میں
ان کا رشتہ بھی کسی نِیل سے ہو گا کہ نہیں
جب سخن کرنے لگوں گا میں تجھے عصر رواں
استعارہ کوئی "انجِیل" سے ہو گا کہ نہیں

دانیال طریر

جواں مرگ شاعر مسعود دانیال (دانیال طریر) کی شاعری آپ سب کی نذر

No comments:

Post a Comment