Wednesday, 7 October 2015

جيسا لگتا نہيں ويسا بھی تو ہوسکتا ہوں

جيسا لگتا نہيں، ويسا بھی تو ہوسکتا ہوں
ميں جو تجسيم ہوں بکھرا بھی تو ہوسکتا ہوں
تيری قامت کا اگر نصف ہے قامت ميری
ميں کسی بوجھ سے دُہرا بھی تو ہو سکتا ہوں
يہ جو رونے پہ بضد رہتی ہيں آنکھيں ميری
ميں کوئی ابر کا ٹکڑا بھی تو ہو سکتا ہوں
اک نظر ديکھ تو لے خواب سے باہر آ کر
ميں تِرے خواب کے جيسا بھی تو ہو سکتا ہوں
يہ جو مِلتے ہيں سبھی لفظ و معانی اپنے
ميں کوئی دوسرا تجھ سا بھی تو ہو سکتا ہوں
يہ جو ديتا ہے زمانہ مجھے تکريم تِری
ميں تِرے رنگ ميں ڈُوبا بھی تو ہو سکتا ہوں
موت تھک ہار کے واپس بھی تو جا سکتی ہے
ميں جو بيمار ہوں، اچھا بھی تو ہو سکتا ہوں

کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment