ان کو غم کا آخری قصہ سنا کر رو دئیے
ضبط کر کے مسکرائے، مسکرا کر رو دئیے
آج اپنی بے کسی کا ہو گیا ہم کو یقین
دِل کو دیکھا اور انہیں دل میں نہ پا کر رو دئیے
آ گئیں گزری ہوئی باتیں نظر کے سامنے
آپ کیا جانیں کہ ضبطِ درد ممکن ہی نہیں
رونے والے، آپ کی نظریں بچا کر رو دئیے
کہہ رہے تھے ان سے افسانے محبت کے شجیعؔ
کہتے کہتے اپنے افسانے پہ آ کر رو دئیے
معظم جاہ شجیع
No comments:
Post a Comment