Saturday, 12 December 2015

ان کو غم کا آخری قصہ سنا کر رو دئیے

ان کو غم کا آخری قصہ سنا کر رو دئیے
ضبط کر کے مسکرائے، مسکرا کر رو دئیے
آج اپنی بے کسی کا ہو گیا ہم کو یقین
دِل کو دیکھا اور انہیں دل میں نہ پا کر رو دئیے
آ گئیں گزری ہوئی باتیں نظر کے سامنے
آنکھ اٹھا کر ان کو دیکھا، سر جھکا کر رو دئیے
آپ کیا جانیں کہ ضبطِ درد ممکن ہی نہیں
رونے والے، آپ کی نظریں بچا کر رو دئیے
کہہ رہے تھے ان سے افسانے محبت کے شجیعؔ
کہتے کہتے اپنے افسانے پہ آ کر رو دئیے​

معظم جاہ شجیع

No comments:

Post a Comment