Tuesday, 15 December 2015

لاکھ ناکام سہی میں تو ہوں نازاں پھر بھی

لاکھ ناکام سہی میں تو ہوں نازاں پھر بھی
ہر مسرت پہ ہے بھاری غمِ جاناں پھر بھی
عمر بھر ڈھونڈتے رہنا ہے ہمیں تو اس کو 
اس کے ملنے کا نہ ہو کوئی امکاں پھر بھی
مانتا ہوں کہ مجھے ضبطِ فغاں کرنا ہے 
جانتا ہوں کہ نہیں کام یہ آساں پھر بھی
جب بہاروں کا نشاں بھی نہ خزاں نے چھوڑا
میری آنکھوں میں رہا رنگِ بہاراں پھر بھی 
عشق پابندِ وفا ساری جفائیں سہہ کر
اپنے معیارِ وفا سے ہے پشیماں پھر بھی
ہم نے الٹے تو بہت کون و مکاں کے پردے 
ہاتھ آیا نہ تِرا گوشۂ داماں پھر بھی
مجھ کو معلوم تھا ظلمت کا فسوں طاری ہے 
میری پلکوں نے کیا جشنِ چراغاں پھر بھی
عمر بھر ہم نے کہے حسن کے قصے لیکن
تشنۂ لفظ رہے سینکڑوں عنواں پھر بھی
ہم نے توبہ کے بہت خود پہ بٹھائے پہرے 
کر گئی کام مگر فطرتِ انساں پھر بھی 
ہمسفر کوئی نہیں راہِ وفا میں، لیکن 
دل یہ کہتا ہے کہ ہے ساتھ نگہباں پھر بھی
سختیاں جھیل چکے مشقِ ستم بھی دیکھی 
کھیل ہے اپنی نظر میں غمِ دوراں پھر بھی
ہم کو دیوانہ کہا سارے جہاں نے، لیکن
ہم ہی نکلے غمِ جاناں کے نگہباں پھر بھی
دل تِرے غم کے عوض عشرتِ دنیا چاہے 
لاکھ ناداں ہو، اتنا نہیں ناداں پھر بھی
دل کو مانوس خزاں سے نہ کہیں کر لینا 
آخر آئے گی یہاں فصلِ بہاراں پھر بھی 
میں اٹھاتا ہی رہا جرم و خطا کے طوفاں 
اس پہ چھائی ہی رہی رحمتِ یزداں پھر بھی
راحتیں لاکھ میسر ہوں قفس میں کیفی
دل کو ڈستا ہی رہے گا غمِ زنداں پھر بھی

زکی کیفی
ذکی کیفی

No comments:

Post a Comment