رات کس کس طرح کہا نہ رہا
نہ رہا پر وہ مہ لقا نہ رہا
غیر آ کر قریب خانہ رہا
شوق اب تیرے آنے کا نہ رہا
تیرے پردہ نے کی یہ پردہ دری
غم مِرا کس لیے کہ دنیا میں
نہ رہا میں مِرا فسانہ رہا
مدعا غیر سے کہا تھا وہ
سمجھے اب کچھ بھی مدعا نہ رہا
کس کی زلفوں کا دھیان تھا کہ میں شب
محو دودِ چراغ خانہ رہا
غیر چھڑکے ہے زخمِ دل پہ نمک
شورِ الفت میں بھی مزا نہ رہا
پہنچے وہ لوگ رتبہ کو کہ مجھے
شکوۂ بخت نارسا نہ رہا
تلخ کامی نصیب اعدا، حیف
جب کہ وہ اپنے کام کا نہ رہا
دل لگانے کے تو اٹھائے مزے
جی بلا سے رہا رہا نہ رہا
تو فلک مرگ ہم سے سب غافل
اب کسی کا بھی آسرا نہ رہا
مومنؔ اس بت کے نیم ناز ہی میں
تم کو دعوائے اتقا نہ رہا
مومن خان مومن
No comments:
Post a Comment