Saturday, 2 January 2016

اب وہ اگلا سا التفات نہیں

اب وہ اگلا سا التفات نہیں
جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں
رنج كيا كيا ہیں ایک جان کے ساتھ
زندگی موت ہے، حیات نہیں
کوئی دل سوز ہو تو کیجے بیاں
سرسری دل کی واردات نہیں
ذرہ ذرہ ہے مظہرِ خورشید
جاگ اے آنکھ دن ہے رات نہیں
قیس ہو، كوہ كن ہو، يا حالیؔ
عاشقی کچھ كسی کی ذات نہیں

الطاف حسین حالی

No comments:

Post a Comment