Saturday, 2 January 2016

دیکھنا ہر طرف نہ مجلس میں

دیکھنا ہر طرف نہ مجلس میں
رخنے نکلیں گے سینکڑوں اس میں
کی نصیحت بُری طرح ناصح
اور اِک بِس ملا دیا بس میں
ہو نہ بِینا تو فرق پھر کیا ہے
چشمِ انساں و چشمِ نرگس میں
دِین اور فقر تھے کبھی کچھ چیز
اب دھرا کیا ہے اُس میں اور اِس میں
ہو فرشتہ بھی تو نہیں انساں
درد تھوڑا بہت نہ ہو جس میں
جانور، آدمی، فرشتہ، خدا
آدمی کی ہیں سینکڑوں قسمیں
کی ہے خلوت پسند حالیؔ نے
اب نہ دیکھو گے اس کو مجلس میں

الطاف حسین حالی

No comments:

Post a Comment