دھوم اتنی تِرے دیوانے مچا سکتے ہیں
کہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیں
مجھ سے اغیار کوئی آنکھ ملا سکتے ہیں
منہ تو دیکھو وہ مِرے سامنے آ سکتے ہیں
یاں و آتشِ نفساں ہیں کہ بھریں آہ تو جھٹ
حضرتِ دل تو بگاڑ آئے ہیں اس سے لیکن
اب بھی ہم چاہیں تو پھر بات بنا سکتے ہیں
ق
شیخی اتنی نہ کر اے شیخ کہ رِندانِ جہاں
انگلیوں پر تجھے چاہیں تو نچا سکتے ہیں
ہو محبت جو تِری دل میں وہ اک طور پہ ہے
ہم گھٹا سکتے ہیں اس کو نہ بڑھا سکتے ہیں
سوچیے تو سہی ہٹ دھرمی نہ کیجے صاحب
چٹکیوں میں مجھے کب آپ اڑا سکتے ہیں
گھر سے باہر تمہیں آنا ہے اگر منع تو آپ
اپنے کوٹھے پہ کبوتر تو اڑا سکتے ہیں
جھولتے ہیں جو یہ جھولے میں سو کہتے ہیں مجھے
ایک وعدے پہ تجھے برسوں جھلا سکتے ہیں
ایک ڈھب کے جو قوافی ہیں ہم ان سے انشاؔ
ایک غزل اور بھی چاہیں تو سنا سکتے ہیں
انشا اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment