پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا
جب مِرا خوں ہو چکا شمشیر پھر کھینچی تو کیا
اے مہوش جب کہ زر تِرے نصیبوں میں نہیں
تُو نے محنت بھی پئے اکسیر بھر کھینچی تو کیا
گر کھِنچے سینہ سے ناوک روح تُو قالب سے کھینچ
کھینچتا تھا پاؤں میرا پہلے ہی زنجیر سے
لاش بھی میری پئے تشہیر پھر کھینچی تو کیا
کھینچ اب نالہ کوئی ایسا کہ ہو اس کو اثر
تُو نے اے دل! آہ پر تاثیر پھر کھینچی تو کیا
چاہئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا
دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا
کھینچ لے اول ہی سے دل کی عنانِ اختیار
تُو نے گر عاشقِ دلگیر! پھر کھینچی تو کیا
کیا ہوا آگے اٹھائے گر ظفرؔ احسانِ عقل
اور اگر اب منتِ تدبیر پھر کھینچی تو کیا
بہادر شاہ ظفر
No comments:
Post a Comment