بے وفاؤں سے ہیں وفا کرتے
حضرتِ دل ہیں دیکھو کیا کرتے
ہم دعا ان کے حق میں کرتے ہیں
اور ہمیں وہ ہیں بد دعا کرتے
خاکساری سے ہیں دل اپنا ہم
اے ستمگر مریضِ عشق تِرے
کبھی اپنی نہیں دوا کرتے
جو نہیں چاہتے کسی کا بھلا
وہ برے ہیں بہت برا کرتے
ان کو نا آشنا سمجھتے جو ہم
کبھی ہرگز نہ آشنا کرتے
میرے اور ان کے چاہ ہوتی ہے
لوگ چرچے ہیں جابجا کرتے
دل نہ دینا کہیں ظفرؔ ان کو
کہ وہ دل لے کے ہیں دغا کرتے
بہادر شاہ ظفر
No comments:
Post a Comment