Sunday, 10 April 2016

محبت میں جینا نئی بات ہے

 محبت میں جینا نئی بات ہے

نہ مرنا بھی مر کر، کرامات ہے

سمجھنا تھا پہلے ہی انجامِ عشق

اب افسانۂ غم خرافات ہے

میں رسوائے الفت وہ معروفِ حسن

بہم شہرتوں میں مساوات ہے

ذرا چل کے دیکھو تو شیخِ حرم

جو ایثارِ پیرِ خرافات ہے

نہ شاہد نہ مے ہے نہ بزمِ طرب

یہ خمیازۂ ترکِ عادات ہے

شب و روزِ فرقت ہمارا ہر ایک

اجل کا ہے دن، موت کی رات ہے

اڑاتا ہے مے مفت سائلؔ مدام

کہ ساقی سے گہری ملاقات ہے


سائل دہلوی

No comments:

Post a Comment