محبت میں جینا نئی بات ہے
نہ مرنا بھی مر کر، کرامات ہے
سمجھنا تھا پہلے ہی انجامِ عشق
اب افسانۂ غم خرافات ہے
میں رسوائے الفت وہ معروفِ حسن
بہم شہرتوں میں مساوات ہے
ذرا چل کے دیکھو تو شیخِ حرم
جو ایثارِ پیرِ خرافات ہے
نہ شاہد نہ مے ہے نہ بزمِ طرب
یہ خمیازۂ ترکِ عادات ہے
شب و روزِ فرقت ہمارا ہر ایک
اجل کا ہے دن، موت کی رات ہے
اڑاتا ہے مے مفت سائلؔ مدام
کہ ساقی سے گہری ملاقات ہے
سائل دہلوی
No comments:
Post a Comment