Sunday, 10 April 2016

ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والے

 ہمیں کہتی ہے دنیا زخمِ دل، زخمِ جگر والے

ذرا تم بھی تو دیکھو ہم کو، تم بھی ہو نظر والے

نظر آئیں گے نقشِ پا جہاں اس فتنہ گر والے

چلیں گے سر کے بَل رَستہ وہاں کے رہگزر والے

ستم ایجادیوں کی شان میں بٹّا نہ آ جائے

نہ کرنا بھول کر تم جور چرخ کی زور والے

جفا و جورِ گلچیں سے چمن ماتم کدہ سا ہے

پھڑکتے ہیں قفس کی طرح آزادی میں پر والے

الفت سے تابہ یا، للہ افسانہ سنا دیجئے

جناب موسیِٰؑ عمراں وہیں حیرت نگر والے

ہمیں معلوم ہے، ہم مانتے ہیں، ہم نے دیکھا ہے

دل آزردہ ہوا کرتے ہیں از حد چشمِ تر والے

کٹانے کو گَلا آٹھوں پہر موجود رہتے ہیں

وہ دل والے جگر والے سہی، ہم بھی ہیں سر والے

تماشا دیکھ کر دنیا کا سائلؔ کو ہوئی حیرت

کہ تکتے رہ گئے بد گوہروں کا منہ گہر والے


سائل دہلوی

No comments:

Post a Comment