میں نے بخش دی تِری کیوں خطا، تجھے علم ہے
تجھے دی ہے کتنی کڑی سزا، تجھے علم ہے
میں سمجھتا تھا تُو ہے اپنے حسن سے بے خبر
تِری اک ادا نے بتا دیا،۔ تجھے علم ہے
مجھے زندگی کے قریب لے گئی جستجو
میں نے دل کی بات کبھی نہ کی تِرے سامنے
مجھے عمر بھر یہ گماں رہا، تجھے علم ہے
وہ مِری گلی جو مِرے لیے ہوئی اجنبی
کبھی واں تھے سب مِرے آشنا، تجھے علم ہے
'مِرا حال دیکھ کے پوچھنے لگا 'کیا ہوا؟
میں نے ہنس کے صرف یہی کہا، تجھے علم ہے
کوئی بات ہے کہ کنارا کش ہوں جہان سے
کبھی محفلوں کی میں جان تھا، تجھے علم ہے
تیمور حسن تیمور
No comments:
Post a Comment