Monday, 4 April 2016

یہ لوگ کرتے ہیں منسوب جو بیاں تجھ سے

یہ لوگ کرتے ہیں منسوب جو بیاں تجھ سے
سمجھتے ہیں مجھے کر دیں گے بدگماں تجھ سے
جہاں جہاں مجھے تیری انا بچانا تھی
شکست کھائی ہے میں نے وہاں وہاں تجھ سے
مِرے شجر! مجھے بازو ہلا کے رخصت کر
کہاں ملیں گے بھلا مجھ کو مہرباں تجھ سے
خدا کرے کہ ہو تعبیر خواب کی اچھی
ملا ہوں رات میں پھولوں کے درمیاں تجھ سے
جدائیوں کا سبب صرف ایک تھا تیمورؔ
توقعات زیادہ تھیں جانِ جاں تجھ سے

تیمور حسن تیمور

No comments:

Post a Comment