وعدے جھوٹے قسمیں جھُوٹی
دنیا کی سب باتیں جھوٹی
کھینچی ہیں جو سچے دل سے
وہ بے نام لکیریں جھوٹی
اس کی آنکھیں بول رہی ہیں
امن کے سارے سپنے جھوٹے
سپنوں کی تعبیریں جھوٹی
ہم نے جن کو سچا جانا
نکلیں وہ سب باتیں جھوٹی
آج ہمیں معلوم ہوا ہے
گزرے کل کی یادیں جھوٹی
دیکھو، کان نہ دھرنا ان پر
دل کی سب آوازیں جھوٹی
بس اک پیار کا بندھن سچا
اور بقاؔ سب رسمیں جھوٹی
بقا بلوچ
No comments:
Post a Comment