بہار آئی، کھِلے گلہائے رنگیں لالہ زاروں میں
قیامت کی تڑپ ہے آج تیرے بے قراروں میں
ہُوا جاتا ہے فاش اب راز کاوش ہائے پنہانی
مجھے کھینچے لیے جاتی ہے وحشت خارزاروں میں
کہاں تک اے دلِ مضطر! یہ شغلِ گِریۂ پیہم
نہ دیکھی حشر کے دن بھی سکونِ قلب کی صورت
یہاں بھی ایک ہنگامہ ہے تیرے بے قراروں میں
نگاہِ ناز کی ہلکی سی جنبش ایک قیامت ہے
لیے جاتا ہے وہ دل کو اشاروں ہی اشاروں میں
نشانِ سر بلندی اے رتنؔ! پستی میں ملتا ہے
بسر کرتا ہوں اپنی زندگی میں خاکساروں میں
پنڈت رتن پنڈوری
No comments:
Post a Comment