Wednesday, 2 November 2016

نظر کی چوٹ اب دل پر عیاں ہوتی ہے

نظر کی چوٹ اب دل پر عیاں ہوتی ہے
کہاں چمکی تھی یہ بجلی کہاں معلوم ہوتی ہے
کبھی خنداں، کبھی یہ کناں معلوم ہوتی ہے
محبت امتحاں در امتحاں معلوم ہوتی ہے
بہ ایں گلشن پرستی اس کا حق ہے موسمِ گل پر
جسے بجلی چراغِ آشیاں معلوم ہوتی ہے
محبت کو تعین کی حدوں میں ڈھونڈنے والو
محبت ماورائے دو جہاں معلوم ہوتی ہے
یہاں تک اب غم دل کی نزاکت آ گئی عنوؔاں
نگاہِ لطف بھی دل پر گِراں معلوم ہوتی ہے

عنوان چشتی

No comments:

Post a Comment