نظر کی چوٹ اب دل پر عیاں ہوتی ہے
کہاں چمکی تھی یہ بجلی کہاں معلوم ہوتی ہے
کبھی خنداں، کبھی یہ کناں معلوم ہوتی ہے
محبت امتحاں در امتحاں معلوم ہوتی ہے
بہ ایں گلشن پرستی اس کا حق ہے موسمِ گل پر
محبت کو تعین کی حدوں میں ڈھونڈنے والو
محبت ماورائے دو جہاں معلوم ہوتی ہے
یہاں تک اب غم دل کی نزاکت آ گئی عنوؔاں
نگاہِ لطف بھی دل پر گِراں معلوم ہوتی ہے
عنوان چشتی
No comments:
Post a Comment