گُم اگر دولتِ اقلیم نہیں ہو سکتی
بادشاہی تِری تسلیم نہیں ہو سکتی
ایک ہی شخص تھا دنیا سے الگ، بے سایہ
روشنی اب کبھی تجسیم نہیں ہو سکتی
ہات کی رِحل پہ جب تک نہ ہو اسکی صورت
کر تو سکتی ہے وہ تشکیلِ خدا بھی لیکن
آزری کچھ ہو، براہیم نہیں ہو سکتی
جان کر اس کو نہ جانا تو یہ میں نے جانا
وقت سے اب مِری تعلیم نہیں ہو سکتی
یہ جو اِک شکل مجھے آئینہ دِکھلاتا ہے
صورتِ احسنِ تقویم نہیں ہو سکتی
بٹ گئی ذات مِری کیسے مِرے بچوں میں
جب اکائی کوئی تقسیم نہیں ہو سکتی
اپنی تقدیر بدلنا ہے مجھے بھی سیفیؔ
اس کے لکھے میں بھی ترمیم نہیں ہو سکتی
منیر سیفی
No comments:
Post a Comment