Friday, 2 December 2016

ہاتھوں میں لیے دل کے نذرانے نظر آئے

 ہاتھوں میں لیے دل کے نذرانے نظر آئے

یوں بھی تِری راہوں میں دیوانے نظر آئے

فرزانوں کی بستی میں دیوانے نہیں دیکھے

دیوانوں کی بستی میں فرزانے نظر آئے

کلیوں کے چٹکتے ہی یہ کیسی فضا بدلی

دامن میں گلستاں کے ویرانے نظر آئے

ماضی کے دھندلکوں میں، میں کھو سا گیا اکثر

ایسے بھی رسالوں میں افسانے نظر آئے

گزرے نہ جلیلؔ ایسے حالات سے دشمن بھی

جانے ہوئے ساتھی بھی انجانے نظر آئے


جلیل الہ آبادی

No comments:

Post a Comment