دل ان سے جو مانگا تو پشیمان ہوئے ہم
نادان تھے، نادان تھے، نادان ہوئے ہم
ہم تجھ کو دکھا دیتے خدائی کا تماشہ
سو باتوں کی اک بات کہ انسان ہوئے ہم
جب سے تِری چھوکٹ پہ جھکایا ہے جبیں کو
ہر چہرہ میں آتا ہے نظر اپنا ہی چہرہ
خود آئینہ، خود دیدۂ، حیران ہوئے ہم
یوں دل میں لیے پھرتے ہیں تصویر تمہاری
جیسے کسی کعبے کے نگہبان ہوئے ہم
وعدہ ہے ملاقات کا اب آنا پڑے گا
اے جان! تیری جان میں بے جان ہوئے ہم
اس پردۂ ہستی کو، کیا چاک کو دیکھا
انسان کہاں، 'مظبرِ یزدان' ہوئے ہم
پہچان گئے تجھ کو زلیخائے زمانہ
بدنام ہوئے، یوسفِ کنعان ہوئے ہم
ایک بت کی پرستش میں کھلا راز یہ واصؔف
کافر جو ہوئے، حافظِ قرآن ہوئے ہم
واصف علی واصف
No comments:
Post a Comment