میں کہاں اور کوئے یار کہاں
وہ بلا لیں، یہ اختیار کہاں
آ ہی نکلے جو مۓ کدے میں ہم
رہ گیا پاس ننگ و عار کہاں
وہ ہوئے مائل بہ کرم خود ہی
چشمِ نرگس بنا ہوا ہے دل
ڈھونڈنے جائیں تجھ کو یار کہاں
آ بھی جاؤ کہ زیست ختم ہوئی
رہ گئی تابِ انتظار کہاں
میں ہوں منصورِ وقت، ڈر کس کا
ڈھونڈتا ہوں، چھپا ہے دار کہاں
آج واصؔف نے پھر غزل کہہ دی
اب نہ کہیے کہ بار بار کہاں
واصف علی واصف
No comments:
Post a Comment