جس کو باوصفِ ستم اپنا کہا
اس نے بھی اب کے ہمیں رُسوا کہا
دم بدم ہوں ضو فشاں اس روز سے
جب سے ماں نے مجھ کو چاند ایسا کہا
عاق ہو کر رہ گئے پل میں سبھی
برق خود آ کر اُسے نہلا گئی
جس شجر کو ہم نے تھا میلا کہا
قولِ غالب ہے کہ اس سے قبل بھی
ایک شاعر نے سخن اچھا کہا
اک ہماری ہی زباں تھی زشت خُو
اس نے تو ماجؔد نہ کچھ بے جا کہ
ماجد صدیقی
No comments:
Post a Comment