جگہ جگہ آنکھوں میں چبھتے منظر ہیں
ہم کس کج نظمی کی پیہم زد پر ہیں
گُن جتلاتے ہیں کیوں ہم، آقاؤں سے
ہم جو حلقہ بگوشی ہی کے خوگر ہیں
خودی کمائی ہے کیا، چھینا جھپٹی سے
عدل گہوں پر بھی ہے گماں زندانوں کا
عادل تک بھی جہاں کے اسیرانِ زر ہیں
نرخوں اور رویوں تک میں دہشت کے
چھپے ہوئے کیا کیا پھنکارتے اژدر ہیں
کب سے چِھنی ہے ان سے جانے خوش خلقی
شہر شہر کیوں کر اجڑے، بستے گھر ہیں
کانوں میں تو گونج صدائے فلاح کی ہے
حال ہمارے ہی ماجؔد کیوں ابتر ہیں
ماجد صدیقی
No comments:
Post a Comment