Sunday, 1 January 2017

رات ہم نے بھی یوں خوشی کر لی

رات ہم نے بھی یوں خوشی کر لی
دل جلا کر ہی روشنی کر لی
آتے جاتے رہا کرو صاحب
آنے جانے میں کیوں کمی کر لی
ہم نے اک تیری دوستی کے لیے
ساری دنیا سے دشمنی کر لی
تیری آنکھوں کی گہری جھیلوں میں
غرق ہم نے یہ زندگی کر لی
کانٹے دامن تو تھام لیتے ہیں
کیسے پھولوں سے دوستی کر لی
ہم نے ان سے نظر ملا کے مشیؔر
کتنی بے چین زندگی کر لی

مشیر کاظمی

No comments:

Post a Comment