آج گھبرا کر وہ بولے، جب سنے نالے مِرے
جان کے پیچھے پڑے ہیں، چاہنے والے مرے
محفلِ دشمن سے میری پیشوائی کے لیے
جھوم کر آنا وہ تیرا، ہائے متوالے مرے
خارِ صحرائے جنوں نے تیز کی کیا کیا زباں
گیسوؤں پر ہاتھ رکھ کر ناز سے کہتے ہیں وہ
سامری کو بھی تو ڈس جائیں یہ دو کالے مرے
حضرتِ ناصح!! تمہاری کیا بری ترکیب ہے
تم کوئی سانچے میں ڈھل سکتے ہو بے ڈھالے مرے
جائے گا ہدیہ رقیبوں کے لیے چاروں طرف
میرے قاتل نے کیے ہیں چار پر کالے مرے
عشق و وحشت کی کرے گا کون ایسی پرورش
ان کو چھوڑوں کس طرح، یہ پڑ گئے پالے مرے
وہ عیادت کو نہ آئے داؔغ تو کچھ غم نہیں
اور دنیا میں بہت ہیں پوچھنے والے مرے
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment