Tuesday, 10 January 2017

عشق کی داستان ہے پیارے

عشق کی داستان ہے پیارے
اپنی اپنی زبان ہے پیارے
کل تک اے درد یہ تپاک نہ تھا
آج کیوں مہربان ہے پیارے
سایۂ عشق سے خدا ہی بچائے
ایک ہی قہر مان ہے پیارے
اس کو کیا کیجئے جو لب نہ کھلیں
یوں تو منہ میں زبان ہے پیارے
یہ تغافل بھی ہے نگہ آمیز
اس میں بھی ایک شان ہے پیارے
جس نے اے دل دیا ہے اپنا غم
اس سے تو بد گمان ہے پیارے
دل کا عالم نگاہ کیا جانے
یہ تو صرف اک زبان ہے پیارے
میرے اشکوں میں اہتمام نہ دیکھ
عاشقی کی زبان ہے پیارے
ہم زمانے سے انتقام تو لیں
اک حسیں درمیان ہے پیارے
عشق کی ایک ایک نادانی
علم و حکمت کی جان ہے پیارے
تُو نہیں میں ہوں، میں نہیں تُو ہے
اب کچھ ایسا گمان ہے پیارے
کہنے سننے میں جو نہیں آتی
وہ بھی اک داستان ہے پیارے
رکھ قدم پھونک پھونک کر ناداں
ذرے زرے میں جان ہے پیارے
کس کو دیکھے سے دل کو چوٹ لگی
کیوں یہ اتری کمان ہے پیارے
تِری برہم خرامیوں کی قسم
دل بہت سخت جان ہے پیارے
ہاں تِرے عہد میں جگؔر کے سوا
ہر کوئی شادمان ہے پیارے

جگر مراد آبادی

1 comment:

  1. So beautiful Ghazal of So Beautiful Poet...
    Ma Sha Allah

    I never Knew it was JIGAR...

    ReplyDelete