ہم جرمِ محبت کے گنہ گار ہیں یارو
پکڑے ہیں کئے اپنے کو، لو گردنیں مارو
مشکل ہے جو چپ رہتے ہیں جی ہوتا ہے بےکل
وہ یار برا مانے ہے، گر رو رو پکارو
گر راحت و آرام گیا جانے دو اے دل
درخواست بھلائی کی فلک سے نہیں بہتر
یوں ہمتوں آگے نہ میاں ہاتھ پسارو
جاؤ جہاں ہے ساقئ سرمستِ قدح نوش
کیوں آۓ ہو جھک جھک مِری آنکھوں میں خمارو
سیرِ چمنِ حسن میں کیا لطف و مزا تھا
کیدھر سے نکل آئے تم اے ہجر کے خارو
جب تک نہیں وہ شوخ تمہیں دیکھے ہے خوباں
خورشید کے نکلے پہ کہاں ہو گے ستارو
پھولی نہ سماتی تھی کہیں انگ میں اپنے
آتی ہے خزاں رہیو خبردار بہارو
اے شاہِ نجف ہوں میں نیاؔز آپکے گھر کا
بگڑے مِرے سب کام تمہیں آن سنوارو
شاہ نیاز بریلوی
No comments:
Post a Comment