Saturday, 14 January 2017

تو نے اپنا جلوہ دکھانے کو جو نقاب منہ سے اٹھا دیا​

تُو نے اپنا جلوہ دکھانے کو جو نقاب منہ سے اٹھا دیا​
وہیں محو حیرتِ بے خودی مجھے آئینہ سا بنا دیا​
وہ جو نقشِ پا کی طرح رہی تھی نمود اپنے وجود کی​
سو کشش سے دامنِ ناز کی اسے بھی زمیں سے مٹا دیا​
کیا ہی چین خوابِ عدم میں تھا، نہ تھا زلفِ یار کا کچھ خیال​
سو جگا کے شورِ ظہور نے مجھے کس بلا میں پھنسا دیا​
رگ و پۓ میں آگ بھڑک اٹھی، پھونکے ہی پڑا سبھی بدن​
مجھے ساقیا!! مۓ آتشیں کا یہ جام کیسا پلا دیا​
جبھی جا کے مکتبِ عشق میں سبق مقامِ فنا کیا​
جو لکھا پڑھا تھا نیازؔ نے سو وہ صاف دل سے بھلا دیا​

شاہ نیاز بریلوی

No comments:

Post a Comment