Friday, 13 January 2017

دوستی کے لہجے میں دشمنی نے مارا ہے

دوستی کے لہجے میں دشمنی نے مارا ہے
دکھ تو یہ ہے ہم کو بس اک خوشی نے مارا ہے
تیرگی کا ہم کریں اب گِلہ بھلا کیسے
ہم کو چاند راتوں میں چاندنی نے مارا ہے
دردِ نا رسائی اب ہم کو کیسے مارے گا
الوداعی لمحوں کی بے بسی نے مارا ہے
دوش کیا رقیبوں کو آج دیں کہ ہم کو تو
اپنی ہی محبت کی بے حسی نے مارا ہے
شہر میں جو رہتا تھا اجنبی سا دیوانہ
سب کو علم ہے اس کو آگہی نے مارا ہے
آرزو شکستہ ہے، دل اداس رہتا ہے
بس تمہاری یادوں سے دوستی نے مارا ہے
ہر قدم پہ اپنی یہ زندگی سلگتی ہے
شہر یہ جفا کا تھا، مخلصی نے مارا ہے

نجمہ شاہین کھوسہ

No comments:

Post a Comment