برنگ آئینہ یاں رہ نہیں عشق مجازی کو
صفائے قلب نے حاصل کیا ہے پاکبازی کو
ہماری خاک کو اے شہ سوارو عرش دکھلایا
خدا ہمت زیادہ دے تمہاری تُرک تازی کو
مآل کار ہے دعوٰئ باطل کا پشیمانی
جلا کرتی ہے گھل گھل کر ہمیشہ شمع کافوری
یہ کس گورے بدن کی اس نے دیکھا ہے گدازی کو
نہیں غم تیغِ ابروئے صنم سے قتل ہونے کا
شہادت بھی، بمنزل فتح کے ہے، مرد غازی کو
فزوں کعبے سے بھی سجدہ طلب، محراب ابرو ہے
جھکانی پڑتی ہے گردن نمازی بے نمازی کو
بتوں نے کج ادائی کی تو کی شکوہ نہیں اس کو
خدا بھی کام فرماتا ہے ہم سے بے نیازی کو
خیال زلف مشکیں روح کو قالب میں آفت ہے
مکان تنگ میں کوڑا غضب ہے اسپ تازی کو
دلا دیں یاد خورشیدِ قیامت کو وہ رخسارے
بھلا دے زلف شبگوں روز محشر کی درازی کو
کفن خلعت ہے، میں دُولہ، جنازہ تختِ دامادی
براتی نوحہ گر ہمراہ ہیں شہنا نوازی کو
زباں کو بند کر آتشؔ، بس اب اس یاوہ گوئی سے
گوارہ کیجیے تا کے تِری بے امتیازی کو
حیدر علی آتش
No comments:
Post a Comment