جس گھڑی راہِ پُرخار میں نے چنی اس نے بھی ساتھ عزمِ سفر کر لیا
صبح سورج نکلنے سے پہلے چلے، جس جگہ ہو گئی رات، گھر کر لیا
دم بہ دم ایک دیوار اٹھتی گئی، اک چھری میرا سینہ کھرچتی گئی
جیسے جیسے گھٹن شہر کی بڑھ چلی، میں نے دل میں نیا ایک در کر لیا
اک صدا میرے کانوں میں آتی رہی، اک بلا نام لے کر بلاتی رہی
زندگی اپنی گزری ہے دکھ بانٹتے، باڑ کانٹوں کی ہر ہر قدم چھانٹتے
ہجر کی فصل پلکوں تلے کاٹتے، جو بھی کوہِ گراں تھا وہ سر کر لیا
ان کے آنے کی پھیلی خبر چار سُو، آئینے مہ جبینوں کے ہیں رُو برُو
میں نے بھی ان کے چہرے پہ ڈالی نظر، روشنی کو اسیرِِ نظر کر لیا
لوگ آتے ہیں میرا نشاں پوچھتے، میرے شعروں کو پڑھ کر تجھے ڈھونڈتے
تجھ پہ میرے سخن کا نہ جادو چلا، میں نے دنیا کو زیرِ اثر کر لیا
فیروز ناطق خسرو
No comments:
Post a Comment