جب اذیت کے موسم گزر جائیں گے
لوگ گھر جائیں گے
پوچھنا صرف اتنا ہی تھا، ہم کدھر جائیں گے؟
ہم کہ جن کے مقدر ہیں تیرہ شبی
جن کی ناؤ نہیں، کوئی دھارا نہیں
جن کا اپنے سوا کوئی محرم نہیں
کچھ سہارا نہیں
کیسے آ کر کوئی
یہ بتائے ہمیں
خوں رلائے ہمیں
تم کو ملنا کبھی وہ کنارا نہیں
حسن کی چھاؤں میں
جسم کی دھوپ میں
اب کسی روپ میں
وہ تمہارا نہیں
وہ تمہارا نہیں
ایمان قیصرانی
No comments:
Post a Comment