Thursday, 15 October 2020

کیا چاندنی ان چند گھرانوں پہ رہے گی

 کیا زیست کی بنیاد فسانوں پہ رہے گی

یہ دھند سی اب کتنے زمانوں پہ رہے گی

ہر ایک مکیں جائے اماں ڈھونڈ رہا ہے

کب تک یہ کڑی دھوپ مکانوں پہ رہے گی

ہر سنگِ سیہ دل کو جلا دے گی مِری آنکھ

سورج کی کرن بن کے چٹانوں پہ رہے گی

ہر شہر میں ہر دشت میں زر آن بسا ہے

اب زندگی جنگل میں مچانوں پہ رہے گی

محنت کا ہنر جاننے والے ہی ادھر آئیں

یہ بات رقم کھیت کے دانوں پہ رہے گی

اے ماہِ شبِ تار مجھے اتنا بتا دے

کیا چاندنی ان چند گھرانوں پہ رہے گی

جب حشر تلک وصل کے آثار نہ ہوں گے

اُفتاد بڑی سوختہ جانوں پہ رہے گی

اب تیر ہی کام آئیں گے اس دشتِ وغا میں

اب آخری تدبیر کمانوں پہ رہے گی


ظہیر کاشمیری

No comments:

Post a Comment