گزشتہ غم کا تدارک ہے اور مداوا ہے
چل اٹھ دِلا کہ نئے عشق کا بلاوا ہے
اداسی اپنے تئیں کر رہی ہے مجھ میں قیام
یہ زہرِ عشق نہیں عشق کے علاوا ہے
تمام شہر ہے اس کا مرید گرچہ وہ شخص
فقیر، پیر، قلندر، ولی، نہ باوا ہے
مِرے چراغ مرے خواب کر قبول اے شخص
تِرے مزار سے چہرے پہ یہ چڑھاوا ہے
کسی بھی شے کا حقیقی کوئی وجود نہیں
یہاں پہ جو بھی ہے ناٹک ہے سب دکھاوا ہے
یہ جس میں ہنستے ہوئے سانس لے رہے ہیں ہم
اسی سکون میں لگتا ہے ہر ڈراوا ہے
یہاں سکوت بگولے ملیں نہ کیسے تجھے
مِرے مکان میں صحرا کا آوا جاوا ہے
فقیہہ راکھ دھوئیں کے سوا ملے کیا داد
کلام ہی تِرا آتش فشاں کا لاوا ہے
فقیہہ حیدر
No comments:
Post a Comment