اولیں تخلیق
میں ایک نراکار میں تھی
یہ میں کا تخیل تھا
جو پانی کا روپ بنا
یہ تُو کا تخیل تھا
جو آگ کی طرح کوندا
اور آگ کا جلوہ پانی پر تیرنے لگا
لیکن وہ تو تاریخ کے آغاز سے پہلے کی بات تھی
یہ میں کی تشنگی تھی
کہ اس نے تُو کا دریا پی لیا
یہ میں کی مٹی کا سبز خواب تھا
کہ تُو کا جنگل اس نے تلاش کر لیا
یہ میں کی زمین کی مہک تھی
اور تُو کے آسمان کا عشق تھا
کہ تُو کا نیلا سا سپنا
مٹی کی سیج پر سویا
یہ تیرے اور میرے بدن کی خوشبو تھی
اور دراصل یہی اولیں تخلیق تھی
تخلیقِ کائنات تو بہت بعد کی بات ہے
امرتا پریتم
No comments:
Post a Comment