آنا یارِ جانی کا
کھلنا رات کی رانی کا
پہلی آندھی موسم کی
پہلا سال جوانی کا
گرمی اس کے ہاتھوں کی
چشمہ ٹھنڈے پانی کا
لمبے سائے یادوں کے
شوق ورق گردانی کا
آنا جانا رہتا ہے
دریاؤں میں پانی کا
باہر ایک تماشا ہے
اندر کی حیرانی کا
آخر میرا کیا ہو گا
کیا ہوگا ویرانی کا
جاگ رہا ہے بستی میں
جنگل قصہ خوانی کا
گردُوں ایک ہیولا ہے
نظروں کی جولانی کا
کیسا موسم آیا ہے
خوابوں کی ارزانی کا
سرد پڑا ہے منڈی میں
گرم لہو دہقانی کا
ساری عمر مشقت کی
خبط کیا سلطانی کا
کام لیا میں حکمت سے
عذر کیا نادانی کا
ڈیرہ دارن کیا جانے
پیار کسی مغلانی کا
میرے گھر میں رہتا ہے
دخل مری بے دھیانی کا
جل کٹیا میں بیٹھا ہے
لیکھک اَمر کہانی کا
رسا چغتائی
No comments:
Post a Comment