Saturday, 19 December 2020

زخم سب اس کو دکھا کر رقص کر

 زخم سب اس کو دکھا کر رقص کر

ایڑیوں تک خوں بہا کر رقص کر

جامۂ خاکی پہ مشتِ خاک ڈال

خود کو مٹی میں ملا کر رقص کر

اس عبادت کی نہیں کوئی قضا

سر کو سجدے سے اٹھا کر رقص کر

دور ہٹ جا سایۂ محراب سے

دھوپ میں خود کو جلا کر رقص کر

بھول جا سب کچھ مگر تصویرِ یار

اپنے سینے سے لگا کر رقص کر

توڑ دے سب حلقۂ بُود و نبود

زلف کے حلقے میں جا کر رقص کر

اس کی چشمِ مست کو نظروں میں رکھ

اک ذرا مستی میں آ کر رقص کر

اپنے ہی پیروں سے اپنا آپ روند

اپنی ہستی کو مٹا کر رقص کر

اس کے دروازے پہ جا کر دف بجا

اس کو کھڑکی میں بلا کر رقص کر


عارف امام

No comments:

Post a Comment