Sunday, 20 December 2020

مکھڑے کو ترے دیکھ کے رشک گل لالا

 مُکھڑے کو ترے دیکھ کے رشکِ گُلِ لالا

پھولے ہے پڑا دل میں ترا چاہنے والا

عالم کے چمن ساز نے یہ سرو کیا واہ

خوبی کی گلستاں میں عجب شان سے بالا

سب تن کو ترے دیکھ یہی کہتے ہیں اے گُل

اللہ نے، کس نور کا یہ عطر نکالا

مہتاب بھی منہ رشک سے بالے میں چھپاوے

دیکھے اگر اک دم ترے مکھڑے کا اجالا

دنیا میں جسے کہتے ہیں سب مل کے پرِستاں

واں بھی ترے عالم نے بڑا شور ہے ڈالا

دل طورِ تغافل سے جونہی گرنے پر آیا

جھپ اس کو تری طرزِ تبسم نے سنبھالا

مشتاق نظیر اک نگہِ لطف کا ہے یاں

اس کو بھی پِلاوے کبھی اس مے کا پیالا


نظیر اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment