Saturday, 19 December 2020

سبھی دھندلا گیا پھر سے

 سبھی دھندلا گیا پھر سے

اندھیرا پھر سے بہنے لگ گیا ہے

پگھل کر پھر کوئی شئے بہہ رہی ہے

ٹپکتا جا رہا ہے قطرہ قطرہ کوئی چہرہ

سبھی کچھ تیرتا ہے اور پھر

کچھ دیر میں سب ڈوب جاتا ہے

مِری آنکھوں میں شاید پھر سے آنسو بھر گئے ہیں


گلزار

No comments:

Post a Comment