Saturday, 19 December 2020

ندی کے پار اجالا دکھائی دیتا ہے

 ندی کے پار اجالا دکھائی دیتا ہے

مجھے یہ خواب ہمیشہ دکھائی دیتا ہے

برس رہی ہیں عقیدت کی بدلیاں لیکن

شعور آج پیاسا دکھائی دیتا ہے

چراغ منزل فردا جلائے گا اک روز

وہ راہگیر جو تنہا دکھائی دیتا ہے

تری نگاہ نے ہلکا سا نقش چھوڑا تھا

مگر یہ زخم تو گہرا دکھائی دیتا ہے

کسی خیال کی مشعل کسی صدا کا چراغ

ہر ایک سمت اندھیرا دکھائی دیتا ہے

امیرؔ پوچھ رہا ہوں غم زمانہ سے

ہمارے گھر میں تجھے کیا دکھائی دیتا ہے


امیر قزلباش

No comments:

Post a Comment