Sunday, 20 December 2020

کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہو گا

 کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہو گا

شاید اسی مرنے میں جینے کا مزا ہو گا

ہر سعئ تبسم پر آنسو نکل آئے ہیں

انجام طرب کوشی کیا جانئے کیا ہو گا

گمراہ محبت ہوں پوچھو نہ مری منزل

ہر نقش قدم میرا منزل کا پتا ہو گا

کیا تیرا مداوا ہو درد شب تنہائی

چپ رہئے تو بربادی کہئے تو گِلا ہو گا

کترا کے تو جاتے ہو دیوانے کے رستے سے

دیوانہ لپٹ جائے قدموں سے تو کیا ہو گا

میخانے سے مسجد تک ملتے ہیں نقوش پا

یا شیخ گئے ہوں گے یا رند گیا ہو گا

فرزانوں کا کیا کہنا ہر بات پہ لڑتے ہیں

دیوانے سے دیوانہ شاید ہی لڑا ہو گا

رندوں کو حفیظ اتنا سمجھا دے کوئی جا کر

آپس میں لڑو گے تم واعظ کا بھلا ہو گا


حفیظ بنارسی

No comments:

Post a Comment