کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہو گا
شاید اسی مرنے میں جینے کا مزا ہو گا
ہر سعئ تبسم پر آنسو نکل آئے ہیں
انجام طرب کوشی کیا جانئے کیا ہو گا
گمراہ محبت ہوں پوچھو نہ مری منزل
ہر نقش قدم میرا منزل کا پتا ہو گا
کیا تیرا مداوا ہو درد شب تنہائی
چپ رہئے تو بربادی کہئے تو گِلا ہو گا
کترا کے تو جاتے ہو دیوانے کے رستے سے
دیوانہ لپٹ جائے قدموں سے تو کیا ہو گا
میخانے سے مسجد تک ملتے ہیں نقوش پا
یا شیخ گئے ہوں گے یا رند گیا ہو گا
فرزانوں کا کیا کہنا ہر بات پہ لڑتے ہیں
دیوانے سے دیوانہ شاید ہی لڑا ہو گا
رندوں کو حفیظ اتنا سمجھا دے کوئی جا کر
آپس میں لڑو گے تم واعظ کا بھلا ہو گا
حفیظ بنارسی
No comments:
Post a Comment